میرا دوست ابو الہول
کلام: اخترالایمان
دھواں دھار تقریر جس نے ابھی کی تھی وہ آدمی ہےجو لفظوں کے پل باندھتا ہے
ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو وعدوں کی افیون دے کراسی پل پہ لاتا ہے اور غرق کر کے
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
دھواں دھار تقریر جس نے ابھی کی تھی وہ آدمی ہےجو لفظوں کے پل باندھتا ہے
ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو وعدوں کی افیون دے کراسی پل پہ لاتا ہے اور غرق کر کے
یہ درد زندگی کس کی امانت ہے کسے دے دوںکوئی وارث نہیں اس کا متاع رائیگاں ہے یہ
مسیحا اب نہ آئیں گے یہی نشتر رگ جاں میںخلش بنتا رہے گا میری سانسوں میں نہاں ہے یہ