بے چارگی
کلام: اخترالایمان
ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہے
گماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میںفریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہے
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئیگلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہے
گماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میںفریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہے
کوئی جو رہتا ہے رہنے دو مصلحت کا شکارچلو کہ جشن بہاراں منائیں گے سب یار
چلو نکھاریں گے اپنے لہو سے عارض گلیہی ہے رسم وفا اور منچلوں کا شعار