آمادگی
ایک اک اینٹ گری پڑی ہےسب دیواریں کانپ رہی ہیں
ان تھک کوششیں معماروں کیسر کو تھامے ہانپ رہی ہیں
کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان
مہمان شاعر: اخترالایمان
ایک اک اینٹ گری پڑی ہےسب دیواریں کانپ رہی ہیں
ان تھک کوششیں معماروں کیسر کو تھامے ہانپ رہی ہیں
یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو یہاں اب سے کچھ سال پہلےمجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی
یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کروہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہی
میں جب طفل مکتب تھا، ہر بات، ہر فلسفہ جانتا تھاکھڑے ہو کے منبر پہ پہروں سلاطین پارین و حاضر
حکایات شیرین و تلخ ان کی، ان کے درخشاں جرائمجو صفحات تاریخ پر کارنامے ہیں، ان کے اوامر
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواںجو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کرجو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
رنگ باد صبا میں بھرتا ہےمیرا اک زخم شام کرتا ہے
سب یہی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ توکیوں سدھارے نہیں سدھرتا ہے