گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر
کلام: مجید امجد
گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کرسینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر
یہ دوریوں کا سیل رواں برگ نامہ بھیجیہ فاصلوں کے بند گراں کوئی بات کر
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کرسینے پہ ایک درد کی سل رکھ کے بات کر
یہ دوریوں کا سیل رواں برگ نامہ بھیجیہ فاصلوں کے بند گراں کوئی بات کر
بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہےخرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے
یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میںہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے