صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم (ردیف .. ا)
کلام: مجید امجد
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تماک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تماک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیریہ دنیا یہ اک نامکمل سی تصویر
یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیرمیں جب دیکھتا ہوں یہ بزمِ فانی