جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل
کلام: مجید امجد
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دلآج اس مٹی کے ہر ذی روح ذرے میں بھی ہے تصویر دل
اپنے دل کی راکھ چن کر کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میںمیں بھی اک سیال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیر دل