سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھے
کلام: مجید امجد
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھےوہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے
وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیالمیں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
سفر کی موج میں تھے وقت کے غبار میں تھےوہ لوگ جو ابھی اس قریۂ بہار میں تھے
وہ ایک چہرے پہ بکھرے عجب عجب سے خیالمیں سوچتا تو وہ غم میرے اختیار میں تھے
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہےکانٹوں سے الجھ کر جینا ہے پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے
شاید وہ زمانہ لوٹ آئے شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیںان اجڑی اجڑی نظروں میں پھر کوئی فسانہ بھرنا ہے