نگاہ باز گشت
کلام: مجید امجد
آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دیدآج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو
میری تشنہ نگاہوں کی صداکوئی بھی سن نہ سکا
کیا روپ دوستی کا کیا رنگ دشمنی کا مجید امجد
مہمان شاعر: مجید امجد
آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعت دیدآج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو
میری تشنہ نگاہوں کی صداکوئی بھی سن نہ سکا
جو ہو سکے تو مرے دل اب اک وہ قصہ بھیذرا سنا کہ ہے کچھ ذکر جس میں تیرا بھی
کبھی سفر ہی سفر میں جو عمر رفتہ کی سمتپلٹ کے دیکھا تو اڑتی تھی گرد فردا بھی