6 اشعار

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ

Poshida kyoon hai Toor pe jalwa dikha ke dekh

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ

«پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھاے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ

پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیزکانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ

لیتا نہیں کسی کا پس مرگ کوئی نامدنیا کو دیکھنا ہے تو دنیا سے جا کے دیکھ

دل میں ہمارے درد زمانے کا ہے نہاںپیوست دل میں سیکڑوں پیکاں جفا کے دیکھ

جو بادہ خوار غم ہیں انہیں بھی کبھی کبھیساقی شراب حسن کے ساغر پلا کے دیکھ

بن جائے گا کبھی نہ کبھی درد ہی دوااسعدؔ کے دل میں درد کی شدت بڑھا کے دیکھ

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں