7 اشعار

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

Rasta koi safar koi musafat koi

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی

«راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئیپھر خرابی کی عطا ہو مجھے صورت کوئی

سارے دریا ہیں یہاں موج میں اپنی اپنیمرے صحرا کو نہیں ان سے شکایت کوئی

جم گئی دھول ملاقات کے آئینوں پرمجھ کو اس کی نہ اسے میری ضرورت کوئی

میں نے دنیا کو سدا دل کے برابر سمجھاکام آئی نہ بزرگوں کی نصیحت کوئی

سرمئی شام کے ہم راہ پرندوں کی قطاردیکھنے والوں کی آنکھوں کو بشارت کوئی

بجھتی آنکھوں کو کسی نور کے دریا کی تلاشٹوٹتی سانس کو زنجیر ضرورت کوئی

تو نے ہر نخل میں کچھ ذوق نمو رکھا ہےاے خدا میرے پنپنے کی علامت کوئی

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں