4 اشعار

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا

Laraz laraz ke na tootein to woh sitare kya

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا

«لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیاجنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا

مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشننظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا

امید و بیم کی یہ کشمکش ہے راز حیاتسکوں نواز ہیں اس کے سوا سہارے کیا

کوئی ہزار مٹائے ابھرتے آئے ہیںہم اہل درد جنون جفا سے ہارے کیا

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں