9 اشعار

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے

Zarre ka raaz mehr ko samjhana chahiye

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے

«ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

ذرے کا راز مہر کو سمجھانا چاہئےچھوٹی سی کوئی بات ہو لڑ جانا چاہئے

خوابوں کی ایک ناؤ سمندر میں ڈال کےطوفاں کی موج موج سے ٹکرانا چاہئے

ہر بات میں جو زہر کے نشتر لگائے ہیںایسے ہی دل جلوں سے تو یارانہ چاہئے

کیا زندگی سے بڑھ کے جہنم نہیں کوئییہ سچ ہے پھر تو آگ میں جل جانا چاہئے

دنیا وہ شاہراہ ہے بچنا محال ہےپگڈنڈیوں کو ڈھونڈ کے اپنانا چاہئے

نظمیں وہ ہوں کہ چیخ پڑیں سارے اہل فننیندیں اڑا دے سب کی وہ افسانہ چاہئے

بحروں کو توڑ توڑ کے نالے میں ڈال دوبس دل کی لے میں فکر کو ڈھل جانا چاہئے

یہ کہکشاں بھی ٹوٹ کے ہو مصرعوں میں جذبذہن رسا کو اتنا تو الجھانا چاہئے

ہم یولیسیسؔ بن کے بہت جی چکے مگریارو حسینؔ بن کے بھی مر جانا چاہئے

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں