8 اشعار

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے

Kya khabar thi ki kabhi be-sar-o-saman honge

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے

«کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گے» باقر مہدی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مجھے دشمن سے اپنے عشق سا ہے باقر مہدی» میں 24 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کیا خبر تھی کہ کبھی بے سر و ساماں ہوں گےفصل گل آتے ہی اس طرح سے ویراں ہوں گے

در بدر پھرتے رہے خاک اڑاتے گزریوحشت دل ترے کیا اور بھی احساں ہوں گے

راکھ ہونے لگیں جل جل کے تمنائیں مگرحسرتیں کہتی ہیں کچھ اور بھی ارماں ہوں گے

یہ تو آغاز مصائب ہے نہ گھبرا اے دلہم ابھی اور ابھی اور پریشاں ہوں گے

میری دنیا میں ترے حسن کی رعنائی ہےتیرے سینے میں مرے عشق کے طوفاں ہوں گے

کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیےاس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے

لاکھ دشوار ہو ملنا مگر اے جان جہاںتجھ سے ملنے کے اسی دور میں امکاں ہوں گے

تو انہی شعروں پہ جھومے گی بہ انداز دگرہم تری بزم میں اک روز غزلخواں ہوں گے

— باقر مہدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں