6 اشعار

ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا

Hamrah mere koi musafir na chala tha

ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا

«ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

ہم راہ مرے کوئی مسافر نہ چلا تھادھوکا مجھے خود اپنی ہی آہٹ سے ہوا تھا

مسدود ہوئی جس کی ہر اک راہ سراسراس صف میں مجھے لا کے کھڑا کس نے کیا تھا

جنبش ہی سے ہونٹوں کی جو کچھ سمجھو تو سمجھواس گنگ محل میں تو بس اتنا ہی روا تھا

تعمیر ہوئے گھر تو گئے جانے کہاں وہجن خانہ بدوشوں کا یہاں خیمہ لگا تھا

دھندلائے خد و خال گر اس کے تو عجب کیادیکھے ہوئے یوں بھی اسے یگ بیت گیا تھا

شب شعلہ بداماں تو سحر سوختہ ساماںدو روپ بدلتا تھا عجب وہ بھی دیا تھا

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں