7 اشعار

بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے

Be wajah tahaffuz ki zarurat bhi nahin hai

بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے

«بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 8 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

بے وجہ تحفظ کی ضرورت بھی نہیں ہےایسی مرے اندر کوئی عورت بھی نہیں ہے

ہاں ان کو بھلا ڈالیں گے اک عمر پڑی ہےاس کام میں ایسی کوئی عجلت بھی نہیں ہے

کس منہ سے گلہ ایسی نگاہوں سے کہ جن میںپہچان کی اب کوئی علامت بھی نہیں ہے

ان کو بھی مجھے شعر سنانے کا ہوا حکمکچھ شعر سے جن کو کوئی نسبت بھی نہیں ہے

میرے بھی تو ماضی کی بہت سی ہیں کتابیںپر ان کو پلٹنے کی تو فرصت بھی نہیں ہے

کچھ تم سے گلہ اور کچھ اپنے سے کہ مجھ کوہر حال میں خوش رہنے کی عادت بھی نہیں ہے

میں دفن رہوں اب یوں ہی ریشم کے کفن میںاب اس کے سوا اور تو صورت بھی نہیں ہے

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں