7 اشعار

چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا

Chalte rahe to kaun sa apna kamaal tha

چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا

«چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھایہ وہ سفر تھا جس میں ٹھہرنا محال تھا

اک دوسرے کا قرب ہوا خوف میں نصیباب شہر میں ہر اک کو ہر اک کا خیال تھا

رہتی تھی اس میں آٹھ پہر اک چہل پہلرونق میں دل کا شہر کبھی بے مثال تھا !

میں خود میں گم تھی اور مجھے اپنی خبر نہ تھیدیکھا جو آئینہ تو عجب میرا حال تھا ۔۔۔!

اک سایہ میرے ساتھ جو چلتا تھا رات دنمجھ سے بھی بڑھ کے اُس کو تو میرا خیال تھا

غم کا حصول امرِ اضافی ہے زیست میںیہ جاننا مرے لیے وجہِ ملال تھا ۔۔۔!

آخر شکستِ دل میرا اعزاز بن گئی!باعث مرے عروج کا میرا زوال تھا​

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں