7 اشعار

منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے

Manzar se kabhi dil ke woh hatta hi nahin hai

منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے

«منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

منظر سے کبھی دل کے وہ ہٹتا ہی نہیں ہےاک شہر جو بستے ہوئے دیکھا ہی نہیں ہے

کچھ منزلیں اب اپنا پتہ بھی نہیں دیتیںاور راستہ ایسا ہے کہ کٹتا ہی نہیں ہے

اک نقش کہ بن بن کے بگڑتا ہی رہا ہےاک خواب کہ پورا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے

کیا ہم پہ گزرتی ہے تمہیں کیسے بتائیںتم نے تو پلٹ کر کبھی پوچھا ہی نہیں ہے

اک عمر گنوائی ہے تو پھر دل کو ملا ہےوہ درد کہ جس کا کوئی چارہ ہی نہیں ہے

یہ عشق کی وادی ہے ذرا سوچ سمجھ لواس راہ پہ پاؤں کوئی دھرتا ہی نہیں ہے

ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے انسان ہے وہ توتم نے اسے شبنمؔ کبھی ڈھونڈا ہی نہیں ہے

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں