6 اشعار

نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے

Na poochh dekh ke kitna malaal hota hai

نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے

«نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہے» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

نہ پوچھ دیکھ کے کتنا ملال ہوتا ہےجو خواب دیکھنے والوں کا حال ہوتا ہے

لبوں پہ مہر خموشی لگائی جاتی ہےاور اس کے بعد ہمیں سے سوال ہوتا ہے

جب آئی شام مسافت تو پھر یہ راز کھلاذرا سی دیر عروج و زوال ہوتا ہے

ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک دنیا ہےکہاں کسی کو کسی کا خیال ہوتا ہے

ہر ایک اوج محبت پہ آ نہیں سکتاکسی کسی میں ہی ایسا کمال ہوتا ہے

رکی ہوئی ہوں اک ایسے سوال پر شبنمؔجواب جس کا ہمیشہ محال ہوتا ہے

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں