6 اشعار

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

Yeh silsile bhi rafaqat ke kuch ajeeb se hain

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

«یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں» شبنم شکیل کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل» میں 16 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیںکہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں

قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدنمگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں

یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیںعجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں

میں زندگی میں مروں گی نہ جانے کتنی بارمجھے خبر ہے کہ رشتے مرے صلیب سے ہیں

یہ اور بات کہ اس کی چہک سے کھلتا ہےہزار شکوے مگر گل کو عندلیب سے ہیں

اسے تو اپنی خبر بھی یہاں نہیں ملتیامیدیں تم کو بہت جس الم نصیب سے ہیں

— شبنم شکیل

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں