10 اشعار

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

Jhinjhlayae hain lajayae hain phir muskuraye hain

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

«جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں» خمار بارہ بنکوی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)» میں 2 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیںہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں

اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیںدنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں

گزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہمکچھ دور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں

اے جوش گریہ دیکھ نہ کرنا خجل مجھےآنکھیں مری ضرور ہیں آنسو پرائے ہیں

اے موت اے بہشت سکوں آ خوش آمدیدہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں

جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آجہم تشنہ کام زہد کے صحرا سے آئے ہیں

انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سےمجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں

سمجھاتے قبل عشق تو ممکن تھا بنتی باتناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں

کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرت خمارؔیہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں

— خمار بارہ بنکوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں