ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں
کلام: اختر شمار
ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیںتو نہیں ہے اور تری دھڑکنیں مرے ساتھ ہیں
تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دلوہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیںتو نہیں ہے اور تری دھڑکنیں مرے ساتھ ہیں
تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دلوہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں