اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے
کلام: اختر شمار
اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گےآخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے
ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میںتیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گےآخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے
ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میںتیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے