مقرر

پرشانت

@Kaku1701

20
پیش کردہ کلام
20
محفلوں میں شرکت
پرشانت کی آواز میں

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچ

کلام: ضیاء جالندھری · محفل: تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری · 2026-11-06

خون کے دریا بہہ جاتے ہیں خیر اور خیر کے بیچاپنے آپ میں سب سچے ہیں مسجد و دیر کے بیچ

لاگ ہو یا کہ لگن ہو دونوں ایک دیے کی لویںایک ہی روشنی لہراتی ہے پیار اور بیر کے بیچ

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو Main sochta rahta hun dimaghon mein nahin jo نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے Chhanw piti hai dhup khati hai نصیر احمد ناصر غزل
  3. 04 سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو Sahaara de nahin sakte shikasta panw ko اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  4. 05 پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا Poochhte kya ho tera yeh haal kaisa ho gaya صفی اورنگ آبادی غزل
  5. 06 کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں Kahaan hoon main ke mera koi aashna bhi nahin خورشیدرضوی غزل
  6. 07 لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا Lutf hi lutf hai jo kuchh hai inaayat ke siwa عرش ملسیانی غزل
  7. 08 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai تنویر دانش
  8. 09 اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو Agar tum dil hamara le ke pachhtaye to rehne do مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب