کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا
کلام: دلاور علی آزر
کیسے بجھتا بھلا چراغ مرادل نے روشن رکھا دماغ مرا
اب مجھے علم ہے کہ میں کیا ہوںاب چھلکتا نہیں ایاغ مرا
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
کیسے بجھتا بھلا چراغ مرادل نے روشن رکھا دماغ مرا
اب مجھے علم ہے کہ میں کیا ہوںاب چھلکتا نہیں ایاغ مرا