وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئے
وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئےچند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے
میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سےدل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
وقت کی سل دب گئی دیوار میں در آ گئےچند موسم بیتنے کے بعد سب گھر آ گئے
میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سےدل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے
آگ لگ جائے گی اک دن مری سرشاری کومیں جو دیتا ہوں ہوا روح کی چنگاری کو
ورنہ یہ لوگ کہاں اپنی حدوں میں رہتےمیں نے معقول کیا حاشیہ برداری کو
رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میںمجھ کو لگانا پڑتی نہیں جست شعر میں
پیمانہ کوئی اور نہیں بن سکا ابھیکرتا ہوں خود کو پیش سر دست شعر میں
کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہےآسماں سے گر کے مجھ میں پارہ پارہ خواب ہے
نیند سے پیچھا چھڑا کر آ رہا ہوں میں مگرمیری آنکھوں کے تعاقب میں دوبارہ خواب ہے
کب تک پھروں گا ہاتھ میں کاسہ اٹھا کے میںجی چاہتا ہے بھاگ لوں دنیا اٹھا کے میں
ہوتی ہے نیند میں کہیں تشکیل خد و خالاٹھتا ہوں اپنے خواب کا چہرہ اٹھا کے میں
یہ اک فقیر کا حجرہ ہے آ کے چلتے بنوپڑی ہے طاق پہ دنیا اٹھا کے چلتے بنو
جہاں فانی ہے مت سوچنا سکونت کابس اپنے نام کا سکہ بٹھا کے چلتے بنو
بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔وہ ذرا بھی نہیں بدلا لوگو۔۔
خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی،اس کے چہرے پر لکھا تھا لوگو۔۔