آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے
کلام: دلاور علی آزر
آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہےعکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے
گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پراور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہےعکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے
گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پراور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے
نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پرمیں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر
اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیںلوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر