دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوا
کلام: دلاور علی آزر
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوادرویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا
پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کیآئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
دل دے کے خوش تھا میں وہ دعا دے کے خوش ہوادرویش مجھ کو اپنا پتا دے کے خوش ہوا
پتھر نے اپنے ساتھ کے پتھر سے بات کیآئینہ آئنے کو صدا دے کے خوش ہوا
مصرع دل کو سجانے کی اجازت نہیں ہےعشق میں ع گرانے کی اجازت نہیں ہے
خال و خد اس کے جھلکتے ہیں مرے چہرے سےجس کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہے
جیسے یہ رات ہے اک خواب طلسمات کی راتمجھ کو لے جائے گی آکر وہ پری رات کی رات
آج کی رات نصیبوں سے ملی ہے ہم کوآج کی رات ہے روحوں سے ملاقات کی رات