خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں
کلام: دلاور علی آزر
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیںیہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں
جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میںوہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیںیہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں
جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میںوہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں
ٹوٹ کر نیند نے آنکھوں کا بھرم توڑ دیاصبح کے شور میں اک خواب نے دم توڑ دیا
پھینک کر سنگِ خموشی کسی دیوانے نےگنگناتی ہوئی ندی کا ردھم توڑ دیا
ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسنجیسے تم ہو کوئی قسمت کا ستارا محسن
اب تو خود کو بھی نکھارا نہیں جاتا ہم سےوہ بھی کیا دن تھے کہ تجھ کو بھی سنوارا محسن