7 اشعار

کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا

Kaise bujhta bhala charagh mera

کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا

«کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

کیسے بجھتا بھلا چراغ مرادل نے روشن رکھا دماغ مرا

اب مجھے علم ہے کہ میں کیا ہوںاب چھلکتا نہیں ایاغ مرا

آ رہی ہے ہوا کسے چھو کرآج صحرا ہے باغ باغ مرا

ہاتھ شاید تمھارے آ جائےمجھ کو حاصل کہاں فراغ مرا

چاروں اطراف تھی ہوا کی فصیلکس نے گل کر دیا چراغ مرا

ایسا الجھا ہے مجھ سے تار خردکام کرتا نہیں دماغ مرا

گم ہوں میں اپنی ذات میں آزرؔکیا لگے وقت کو سراغ مرا

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں