کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
کلام: دلاور علی آزر
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤبے نمو آئنہ خانے سے الگ ہو جاؤ
سارا دن ساتھ رہو سائے کی صورت اپنےشام ہوتے ہی بہانے سے الگ ہو جاؤ
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤبے نمو آئنہ خانے سے الگ ہو جاؤ
سارا دن ساتھ رہو سائے کی صورت اپنےشام ہوتے ہی بہانے سے الگ ہو جاؤ
یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھامور چگتے تھے یہاں اونٹ وہاں چرتا تھا
رات لے آئی ہے پھر گھور اندھیرے میں اسےان خلاؤں سے مرا چاند بہت ڈرتا تھا
شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہےشامؔ ہوتی ہے کہ سورجؔ کا نشہ ٹوٹتا ہے
اس لیے بند ہی رکھتا ہوں میں آنکھیں اپنیدیکھتا ہوں تو مرا دیکھا ہوا ٹوٹتا ہے