آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
کلام: دلاور علی آزر
آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میںپیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں
سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئےکچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میںپیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں
سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئےکچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں
بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھےحیرت سے دیکھتے ہیں سبھی نکتہ چیں مجھے
جو کچھ ملا حضور کے صدقے سے ہے ملااور جو نہیں ہے اس کی ضرورت نہیں مجھے