وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں
کلام: دلاور علی آزر
وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میںشمار ہوتا بھی کیسے کہ بے شمار تھا میں
مجھے سمیٹ لیا ہے تری تمنا نےطلب کی راہ میں بکھرا ہوا غبار تھا میں
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میںشمار ہوتا بھی کیسے کہ بے شمار تھا میں
مجھے سمیٹ لیا ہے تری تمنا نےطلب کی راہ میں بکھرا ہوا غبار تھا میں
جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کوکہاں گئیں مری آنکھیں جواب دے مجھ کو
اب اُس کا رنگ مرے خون میں بھی شامل ہےتجھے یہ کس نے کہا تھا گلاب دے مجھ کو