7 اشعار

ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے

Tere baghair sukoon-o-qarar ko tarse

ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے

«ترے بغیر سکون و قرار کو ترسے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ترے بغیر سکون و قرار کو ترسےبہار میں بھی ہم اپنی بہار کو ترسے

ملا نہ چین کسی کل انہیں بھی تڑپا کرقرار چھین کے وہ بھی قرار کو ترسے

وہ سامنے تھے مگر چشم شوق اٹھ نہ سکیدم وصال بھی دیدار یار کو ترسے

تمام زندگی گزری تھی عیش سے جن کیوہ بعد مرگ چراغ مزار کو ترسے

بس اک نظر انہیں دیکھا تو یہ سزا پائیکہ عمر بھر کے لئے ہم قرار کو ترسے

کیا نہ وصل کا وعدہ بھی اس ستم گر نےتمام عمر شب انتظار کو ترسے

کچھ ایسی بے خودی چھائی تھی غم کی اے ساحرؔکہ ہم شراب بھی پی کر خمار کو ترسے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں