9 اشعار

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے

Na Jis Mein Hadse Gham Ke Hon Zindagi Ke Liye

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے

«نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

نہ جس میں حادثے غم کے ہوں زندگی کے لئےوہ زندگی تو مصیبت ہے آدمی کے لئے

او بے نیاز مرے کچھ خبر بھی ہے تجھ کومٹا رہا ہوں میں خود کو تری خوشی کے لئے

ہوس پرست نہیں بندۂ خلوص ہوں میںجو میرا اپنا ہو میں بھی ہوں بس اسی کے لئے

خدا کی دین ہے وہ جس کو دولت غم دےکہ فیض عشق نہیں ہے یہ ہر کسی کے لئے

بس اک نگاہ تمنا نواز ہو جائےترس گیا ہوں محبت کی زندگی کے لئے

زہے نصیب کہ آئی تو ان کے ہونٹوں پرتمام عمر میں رویا تھا جس ہنسی کے لئے

یہ اپنا اپنا مقدر ہے اپنا اپنا نصیبکہ غم کسی کے لئے ہے خوشی کسی کے لئے

کہاں وہ لذت پیہم کہ اب تو ظالم نےاٹھا رکھی ہیں جفائیں کبھی کبھی کے لئے

رکھا نہ وحشت دل نے کہیں کا اے ساحرؔنہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں