15 اشعار

یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے

Yun to pehlu mein mere aaye to sharma jaaye hai

یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے

«یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

یوں تو پہلو میں مرے آئے تو شرما جائے ہےاور تصور میں وہ ظالم بے دھڑک آ جائے ہے

بیٹھے بیٹھے یاد جب وہ بے وفا آ جائے ہےیوں لگے ہے جیسے دل پہلو سے نکلا جائے ہے

اس کے رخ پر زلف جب شوخی سے لہرا جائے ہےکیا کہوں اس وقت دل میں کیا خیال آ جائے ہے

کیا کہوں اس کی جدائی کیا غضب ڈھا جائے ہےجیتے جی ہی مجھ کو مرنے کا مزہ آ جائے ہے

اتنا ہی نزدیک تجھ کو پا رہا ہوں دل سے میںجس قدر او بے وفا تو دور ہوتا جائے ہے

جتنی جتنی بڑھ رہی ہیں عشق کی مجبوریاںاتنا اتنا زندگی کا لطف بڑھتا جائے ہے

یاد آنا اس کا فرقت میں قیامت ہو گیالاکھ سمجھاتا ہوں پر دل ہے کہ مچلا جائے ہے

یوں نہ ٹھکرا التجا برباد دل پر رحم کرصبر کا دامن مرے ہاتھوں سے چھوٹا جائے ہے

جب کمی محسوس ہوگی ان کو میری ہر جگہوہ زمان ہجر میں نزدیک آیا جائے ہے

جب نہیں ہوتا کوئی غم کا مری فریاد رسدرد دل اشعار کے سانچوں میں ڈھلتا جائے ہے

جب امنڈتا ہے دل پر غم وفور درد سےپھر کہاں پلکوں سے اشکوں کو سنبھالا جائے ہے

ہو کے شرمندہ کوئی مائل ہو جس دم لطف پربے خودیٔ شوق میں پھر کس سے سنبھلا جائے ہے

اک پیام ناشنیدہ نالۂ نا آفریدہائے وہ نغمہ جو ساز دل پہ گایا جائے ہے

اشک بھر بھر آئے ہیں اس وقت آنکھوں میں مریاپنی بربادی کا منظر کس سے دیکھا جائے ہے

شکوہ آ ہی جائے ہے ساحرؔ لب مایوس پریورش غم سے دل ناکام گھبرا جائے ہے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں