10 اشعار

ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا

Hai ajeeb kashmakash mein gham-e-aarzoo ka maara

ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا

«ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارا» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

ہے عجیب کشمکش میں غم آرزو کا مارانہ تو عرض غم کا یارا نہ کہے بغیر چارا

کہیں اس سے حال کیا جو نہ سمجھ سکے اشاراغم عشق کو یہ ذلت نہیں حشر تک گوارا

میں نہیں ہوں موج مضطر جو ہو بے قرار ساحلمیں غریق بحر غم ہوں مجھے ڈھونڈ لے کنارا

مجھے کیا مٹا سکیں گے غم ہجر کے یہ طوفاںکہ ابھی ہے میرے بس میں تری یاد کا سہارا

نہ کہیں کا مجھ کو رکھا تری آرزو نے ظالممیں جہاں بھی جا کے ڈوبا وہیں مل گیا کنارا

مری سخت جانی برحق مگر اس کا پوچھنا کیاترے ہجر کا زمانہ بنا جس طرح گزارہ

میں حریف کشمکش ہوں ہے جگہ مری تلاطمجسے موت کی ہو خواہش وہی ڈھونڈ لے کنارا

ترے پوچھنے کے صدقے غم دل کا ماجرا کیاترے لطف نے جلایا تری بے رخی نے مارا

مری آرزو اور ان کو کہیں خواب تو نہیں ہےیہ کہاں چمک رہا ہے مرے بخت کا ستارا

ہے عجیب چیز ساحرؔ یہ مقدر وفا بھیکہ اسی کو ہم نے چاہا جو نہ ہو سکے ہمارا

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں