7 اشعار

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

Aankhon Se Meri Is Liye Laali Nahin Jaati

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

«آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی» وصی شاہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی اب کے میرا نام نہ شامل کرنا (وصی شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 27 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتییادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹےاس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی

مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیںتیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی

آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالےہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی

معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے ترے قصےپر بات تری ہم سے اچھالی نہیں جاتی

ہم راہ ترے پھول کھلاتی تھی جو دل میںاب شام وہی درد سے خالی نہیں جاتی

ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گیتم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی

— وصی شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں