بے خودی بے حساب کی میں نے
کلام: زبیر قلزم
بے خودی بے حساب کی میں نےاب کہ شبنم شراب کی میں نے
سارے بھنورے چمن چلے آئےاک کلی جب گلاب کی میں نے
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
بے خودی بے حساب کی میں نےاب کہ شبنم شراب کی میں نے
سارے بھنورے چمن چلے آئےاک کلی جب گلاب کی میں نے
شوق اپنے سبھی نرالے ہیںسانپ خود آستیں میں پالے ہیں
چار پیسے لگیں غریب کے ہاتھاس طرح غم ترے سنبھالے ہیں