8 اشعار

عشق سر پہ سوار تھا یارو

Ishq sar pe sawar tha yaaro

عشق سر پہ سوار تھا یارو

«عشق سر پہ سوار تھا یارو» زبیر قلزم کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام» میں 11 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

عشق سر پہ سوار تھا یاروحسن پر میں نثار تھا یارو

ٹوٹتا ہے بدن جو اترا ہےعشق تھا یا بخار تھا

ایک پتھر تھا زور سے لگا تھابھیڑ میں کوئی یار تھا یارو

جب میں اجڑا تھا پھول کھل رہے تھےکیا وہ موسم بہار تھا یارو

دھندلا تھا جدائی کا منظرمیں زرا اشک بار تھا یارو

کیسے ملتی غریب کو جنتاس کے سر پہ ادھار تھا یارو

مر گیا دل میں کس سے بات کروںدل مرا راز دار تھا یارو

اس گلی میں تھے ایک سو بیماروہ اکیلا انار تھا یارو

— زبیر قلزم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں