سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گا
کلام: زبیر قلزم
سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گادل لگائے گا کسی سے تو یا مر جائے گا
زیب تم کو نہیں دیتی یہ نبھا کی باتیںتم کو عادت نہیں اس کی تو مکر جائے گا
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
سوچتا ہوں کہ بچھڑ کر تو کدھر جائے گادل لگائے گا کسی سے تو یا مر جائے گا
زیب تم کو نہیں دیتی یہ نبھا کی باتیںتم کو عادت نہیں اس کی تو مکر جائے گا