میں زمینی میں آسمانی ہوں
کلام: زبیر قلزم
میں زمینی میں آسمانی ہوںمیں محبت میں جاودانی ہوں
دیکھ لو اب کبھی سنو گے مجھےمیں ہی کردار میں کہانی ہوں
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
میں زمینی میں آسمانی ہوںمیں محبت میں جاودانی ہوں
دیکھ لو اب کبھی سنو گے مجھےمیں ہی کردار میں کہانی ہوں
کس کی آخر یہ انتطاری ہےرات اس سوچ میں گزاری ہے
دن کہاں رہ گیا خدا جانےکون سی رات ہم پہ طاری ہے