ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہے
کلام: زبیر قلزم
ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہےپیار تو کرنا ہے اظہار نہیں کرنا ہے
حسن کے آگے یہ دل ہار گیا ہوں لیکنمجھ کو اس ہار کا اقرار نہیں کرنا ہے
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
ایسا بلکل بھی نہیں پیار نہیں کرنا ہےپیار تو کرنا ہے اظہار نہیں کرنا ہے
حسن کے آگے یہ دل ہار گیا ہوں لیکنمجھ کو اس ہار کا اقرار نہیں کرنا ہے
دو گھڑی میرے ساتھ رقص کرےپھر یہ دن جھومے رات رقص کرے
جب حسیں شخص محو رقص ہوایوں لگا کائنات رقص کرے