مقرر

گلشن شیرازی

@FIRFIR512

32
پیش کردہ کلام
32
محفلوں میں شرکت
گلشن شیرازی کی آواز میں

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05

«گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سےیہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے

کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھاوہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 نالاں بھی ہے جو لب پہ لیے التماس ہے Nalaan bhi hai jo lab pe liye iltemaas hai تنویر دانش
  2. 02 جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی Jabeen par khaak hai yeh kis ke dar ki مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے Kyo'n kar na laaye rang gulistaan naye naye رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا Ashk mere hain magar dida-e-nam hai us ka باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 05 ہم اہل خوف Hum Ahl-e-Khauf اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  6. 06 خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin راکب مختار آواز میں دستیاب
  7. 07 لب پہ پھر آئی ہے فریاد رسول عربی Lab pe phir aayi hai faryaad Rasool-e-Arabi بہزاد لکھنوی
  8. 08 ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف Saari khalqat ek taraf thi aur deewane ek taraf اختر شمار آواز میں دستیاب