5 اشعار

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

Guzar na jaaye sama'at ke sard khanoun se

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے

«گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سےیہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے

کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھاوہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے

یہ چشم ابر کا پانی یہ نخل مہر کے پاتاتر رہا ہے مرا رزق آسمانوں سے

جو در کھلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتےیہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی مکانوں سے

اتار پھینکا بدن سے لباس تک شارقؔمگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں