گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
کلام: سعید شارق
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سےیہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے
کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھاوہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سےیہ بازگشت جو چپکی ہوئی ہے کانوں سے
کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائیگاں بھی نہ تھاوہ سکہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کن خزانوں سے
کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میںجی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں
وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکاکس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں