خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
کلام: راکب مختار
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں
تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں
تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں