7 اشعار

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں

Khaki paikar hai magar khak nasheenon se nahin

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں

«خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں

تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں

دھوکہ دیتی ہے یہ محراب کی کالک اکثرلوگ کردار سے کھلتے ہیں جبینوں سے نہیں

ان کی قسمت جنہیں دریا سے محبت تھی بہتکوئی شکوہ مجھے غرقاب سفینوں سے نہیں

مجھ سے اک پل کی بھی غفلت نہ برتنے والےرابطہ خود سے مرا کتنے مہینوں سے نہیں

بادشاہا تجھے آئینہ دغا دیتا ہےتاج انصاف سے سجتا ہے نگینوں سے نہیں

صرف اک قبرٍ مقرر کے علاوہ راکبکوئی لالچ مجھے پرکھوں کی زمینوں سے نہیں

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں