ایمان کی آواز میں
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21
«دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھےخوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِقوہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے