دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے
کلام: راکب مختار
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھےخوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِقوہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھےخوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِقوہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے
دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیںوقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں
جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیںنوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں