7 اشعار

دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے

Dhaṛkan the, du'ā the, mere hone kā yaqeen the

دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے

«دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

دھڑکن تھے، دعا تھے، میرے ہونے کا یقیں تھےخوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے

دُکھ یہ ہے مرے یُوسف و یعقوب کے خالِقوہ لوگ بھی بِچھڑے، جو بِچھڑنے کے نہیں تھے

اے بادِ سِتم خیز ، تیری خیر کہ تُو نےپنچھی وہ اُڑائے ، جو اُڑنے کے نہیں تھے

تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کاچھوڑو، یہ مرے زخم ہی بَھرنے کے نہیں تھے

اے زیست اِدھر دیکھ ، کہ ہم نے تری خاطِروہ دِن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے

کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اُٹھایاآنسُو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے

اے گردشِ ایام ہمیں رَنج بہت ہےکچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے نہیں تھے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں